بسم اللہ الرحمن الرحیم

Founder's Message

پیغامِ بانی

بانی کے خیالات و پیغام

دورِ حاضر میں امت مسلمہ کی فکری، اخلاقی، علمی، تحقیقی، تہذیبی، معاشرتی، سماجی، عدالتی، سیاسی، حکومتی اور معاشی پستی کی اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمان حقیقت (قرآن و سنت) کے سامنے ہوتے ہوئے بھی حقیقت سے بے خبر اور لاعلم ہیں اور دنیاوی خواہشات میں گم ہیں۔ اور یہی مسلمانوں کے زوال کی وجہ ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَo

"اے ایمان والو تم اللہ کی اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو"۔ (سورۃ انفال 20)

بے شک اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی فرمانبرداری سے ہی ابدی رہنمائی، کامیابی اور سر بلندی ملتی ہے لیکن مسلمانوں نے قرآن مجید اور حدیثِ رسولﷺ کو اپنے لیے رہنما بنانے کے بجائے برکت و ثواب اور جزائی فقہ کا ماخذ سمجھ لیا۔ ظلم یہ کیا گیا خصوصاً برصغیر میں کہ عربی زبان سیکھنے اور سمجھنے پر توجہ ہی نہ دی گئی۔ کیا دنیا میں کوئی ایسی کتاب ہے! جس کی زبان آپ کو سمجھ نہ آتی ہو اور آپ پڑھتے چلے جائیں یہ سلوک کیا ہم نے قرآن کریم کے ساتھ۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍo

"اور ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لیے تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا؟" (سورۃ القمر 22)

بے شک خاتم النبیین حضرت محمدﷺ امت کی حالتِ زار سے پیشگی طور پر واقف تھے اس لیے آپﷺ نے اپنے آخری خطبہ حجۃ الوداع پر امت کو آگاہ کر دیا تھا رسول اللہﷺ نے فرمایا:

"تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ"

"میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے، کبھی گمراہ نہیں ہو گے: (ایک) اللہ کی کتاب اور (دوسری) اس کے رسولﷺ کی سنت" (مشکوٰۃ المصابیح 186)

مگر جس زمانے کے مسلمانوں نے قرآن و سنت کو ترک کیا وہ گمراہ ہو گئے اور اللہ نے انہیں اپنی رہنمائی و ہدایت سے محروم کر دیا۔ کیوں کہ مسلمانوں نے اہل مغرب کی طرح دنیاوی فائدوں کو مقدم جانا اور اہل کتاب کی طرح دینِ حق کو ایک بے روح ڈھانچہ بنا کر رکھ دیا۔ اس کے بارے میں ہی رسول اکرمﷺ نے پیشگوئی کی تھی۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

"لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ"

"تم اپنے سے پہلی امتوں کو ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کا اتباع کرو گے" ہم (صحابہؓ) نے پوچھا یا رسول اللہﷺ کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا "پھر اور کون" (صحیح بخاری 7320)

ذرا غور کریں آج وہ سارے عوامل مسلمانوں میں دیکھے جا سکتے ہیں جو یہود و نصاریٰ میں پائے جاتے تھے اور ہیں۔ جیسے یہود نے سمجھا تھا کہ ہم اللہ کے لاڈلے بندے اور قوم تھے اور ہیں ہم ضرور نجات پائیں گے۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی تصور کر لیا کہ ہم خیر امت ہیں اور ہم سب حضورﷺ کی وجہ سے بخشے جائیں گے اس میں کچھ شک نہیں کہ حضور پاکﷺ انشاء اللہ امت کی شفاعت کریں گے۔

بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان اللہ کی کتاب اور رسولﷺ کی سنت کو چھوڑ کر مومن بن جائیں حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَo

"اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی سر بلند (غالب) رہو گے اگر تم مومن ہوئے" (سورۃ آل عمران 139)

آج کے دور میں نہ تو مسلمان مومن رہے اور نہ غالب رہے۔ مسلمانوں کے اعمال اور تفرقہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دیگر اقوام کو مسلمانوں پر مسلط کر دیا۔

قرآن الحکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا o

"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو" (سورۃ آل عمران 103)

در حقیقت دنیا اور آخرت کے لیے دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے قرآن بتاتا ہے کہ انسان کس طرح زندگی بسر کرے کہ وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائے۔ قرآن و سنت کے مطابق دنیا دارالامتحان ہے جو عارضی ہے اور آخرت جو اصل ہے وہ دارالفلاح ہے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اسلام محض ایک مذہب کے طور پر تو باقی ہے لیکن دینِ حق اور نظامِ اسلام اپنی صحیح صورت میں زمین کے کسی خطے میں بھی قائم و نافذ نہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کیسے ہم اس پستی سے نکلیں اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور ہدایت حاصل کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ غلبہ عطا فرمائے اس کا راستہ بہت ہی آسان اور واضح ہے جو کہ قرآن مجید میں بتایا ہوا ہے۔

تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَo

"ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو" (سورۃ الصف 11)

کامیابی صرف اور صرف قرآن و سنت پر عمل کر کے ہی ممکن ہے اور اس کے لیے ہم کو ازسرِ نو دعوت و تبلیغ اور اقامتِ دین کی جدوجہد کرنی پڑے گی اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ہم نے ایک جماعت بنائی جس کا نام اسلام محمدﷺ ہے تاکہ دورِ حاضر کے فتنوں اور دیگر اقوام سے مقابلہ کر سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہم دینِ اسلام کو سر بلند اور غالب کرنے کے لیے مسلم اور نو مسلم کی رہنمائی کریں۔ تاکہ وہ سیدھا راستہ جو قرآن و سنت کا راستہ ہے وہ اختیار کریں۔ اور پھر سے اسلام کا عروج آئے اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ جیسا نظام قائم ہو۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ: السَّمْعُ، وَالطَّاعَةُ، وَالْجِهَادُ، وَالْهِجْرَةُ، وَالْجَمَاعَةُ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ ؟ قَالَ: وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ

"میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے: بات سننا (سننے کے بعد) اطاعت کرنا جہاد کرنا ہجرت کرنا جماعت کے ساتھ رہنا کیوں کہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے" (یہ سن کر) ایک شخص نے پوچھا اللہ کے رسولﷺ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے؟ آپﷺ نے فرمایا "ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو اس اللہ کے پکار کی دعوت دو جس نے تمہارا نام مسلم و مومن رکھا" (جامع ترمذی 2863)

آخر میں میں آپ کی توجہ ایک آیتِ کریمہ کی طرف مبذول کرواتا ہوں۔

وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدۡخِلۡہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَ لَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌo

"اور جو کوئی اللہ اور رسولﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے اسے وہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے ذلت انگیز عذاب ہے" (سورۃ النساء 14)

Founder's thinking & message

In the present era, the true reality behind the intellectual, moral, academic, research, cultural, social, judicial, political, governmental, and economic decline of the Muslim Ummah is that despite having the Ultimate Reality (The Quran and Sunnah) right in front of them, Muslims remain unaware and ignorant of it, lost in worldly desires. This is the sole reason for the decline of Muslims.

Allah Almighty states in the Holy Quran:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَo

"Believers! Obey Allah and His Messenger and do not turn away from him after you hear his command." (Surah Al-Anfal, 20)

Undoubtedly, eternal guidance, success, and honor are achieved only through obedience to Allah and HIS Messenger ﷺ. However, instead of making the Holy Quran and the Hadith of the Prophet ﷺ their guide, Muslims have reduced them to a source of mere blessings, rewards, and secondary jurisprudence. A great injustice was done — especially in the Subcontinent — where no attention was paid to learning and understanding the Arabic language. Is there any other book in the world whose language you do not understand, yet you keep reading it? This is how we have treated the Holy Quran.

Allah Almighty states in the Holy Quran:

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍo

"And We have certainly made the Qur'an easy for remembrance, so is there any who will remember?" (Surah Al-Qamar, 22)

Undoubtedly, the seal of the Prophets, the last Prophet Muhammad ﷺ, was forewarned about the plight of his Ummah. Therefore, during his final sermon (Khutbah Hajjat-ul-Wada), He ﷺ warned the Ummah, saying:

"تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ"

"I have left two things among you, as long as you hold fast to them, you will never go astray: the Book of Allah and the Sunnah of His Prophet ﷺ." (Mishkat al-Masabih, 186)

But when the Muslims of later times abandoned the Quran and Sunnah, they went astray, and Allah deprived them of His guidance and direction. This happened because Muslims, much like Western societies, prioritized worldly gains and, like the People of the Book (Ahl-al-Kitab), reduced the True Religion into a soulless framework. The Holy Prophet ﷺ had already prophesied about this:

The Prophet ﷺ said,

"لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ"

"You will follow the ways of those nations who were before you, span by span and cubit by cubit (i.e., inch by inch) so much so that even if they entered a hole of a mastigure, you would follow them. We said, O Allah's Apostle! (Do you mean) the Jews and the Christians? He said, Whom else?" (Sahi Bukhari 7320)

Just think (If we reflect today), all those traits can be seen in Muslims which were and are found in the Jews and Christians. Just as the Jews believed that they were and are Allah's favorites and chosen people and would definitely achieve salvation, Muslims have similarly assumed that we are the "Best of Nations" (Khair-ul-Ummah) and will all be forgiven solely because of our connection to the Prophet Muhammad ﷺ. While there is no doubt that the Holy Prophet Muhammad ﷺ will intercede for his Ummah, Insha'Allah, how can it be possible for a Muslim to abandon the Book of Allah and the Sunnah of the Prophet ﷺ and still remain a true believer?

Allah Almighty states in the Holy Quran:

وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَo

"So do not weaken and do not grieve, and you will be superior if you are [true] believers." (Surah Al 'Imran 139)

In today's age, Muslims are neither true believers nor dominant. Due to the actions and internal sectarianism of Muslims, Allah Almighty has allowed other nations to dominate them.

Allah Almighty states in the Quran al-Hakeem:

وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا o

"And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided." (Surah Al 'Imran 103)

In reality, the religion of Islam is a complete code of life for both this world and the Hereafter. The Quran teaches human how to lead his life so that he can achieve success in both worlds. According to the Quran and Sunnah, this world is a place of testing which is temporary (Dar-al-Imtihan), while the Hereafter is the real place of ultimate success (Dar-al-Falah). The current state of affairs is that Islam exists merely as a ritualistic religion, but the True Religion (Deen e Haq) and Islamic system are not established or implemented in their true form anywhere on earth.

Now, the question is how do we escape this plight and attain the guidance of Allah Almighty so that He may grant us dominance once again? The path to this is very simple, clear, and explicitly mentioned in the Holy Quran:

تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَo

"Have faith in Allah and His Messenger and strive in the Way of Allah with your possessions and your lives. That is better for you if you only knew." (Surah As Saff 11)

Success is possible only and entirely by acting (following) upon the Quran and Sunnah. For this, we must revive the work of Dawah (preaching), propagation, and the struggle to establish the religion (Iqamat-e-Deen). To achieve this grand objective, we have formed a organization named Islam Muhammad ﷺ, so that we can counter the tribulations of the modern era and other dominant nations, while simultaneously guiding Muslims and new converts to elevate and establish the religion of Islam. Our goal is to guide them toward the straight path — the path of the Quran and Sunnah — so that the rise of Islam may return and a system like the Caliphate upon the Prophetic Methodology (Khilafat ala Minhaj-an-Nubuwwah) can be re-established.

The Holy Prophet Muhammad ﷺ said:

"وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ: السَّمْعُ، وَالطَّاعَةُ، وَالْجِهَادُ، وَالْهِجْرَةُ، وَالْجَمَاعَةُ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ ؟ قَالَ: وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ"

"And I command you with five that Allah commanded me: Listening and obeying, Jihad, Hijrah, and the Jama'ah. For indeed whoever parts from the Jama'ah the measure of a hand-span, then he has cast off the yoke of Islam from his neck, unless he returns. And whoever calls with the call of Jahiliyyah then he is from the coals of Hell. A man said: O Messenger of Allah! Even if he performs Salat and fasts? So He (ﷺ) said: Even if he performs Salat and fasts. So call with the call that Allah named you with: Muslims, believers, worshipers of Allah." (Jami at-Tirmidhi 2863)

In conclusion, I would like to draw your attention to this verse of the Holy Quran:

وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدۡخِلۡہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَ لَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌo

"And whoever disobeys Allah and His Messenger and transgresses His limits - He will put him into the Fire to abide eternally therein, and he will have a humiliating punishment." (Surah An Nisa 14)

References · حوالہ جات

  • Surah al-Anfal 8:20
  • Surah al-Qamar 54:22
  • Mishkat al-Masabih 186
  • Sahih al-Bukhari 7320
  • Surah Aal-e-Imran 3:139
  • Surah Aal-e-Imran 3:103
  • Surah as-Saff 61:11
  • Jami at-Tirmidhi 2863 — five commands: listening, obeying, jihad, hijrah, Jama'ah
  • Surah an-Nisa 4:14

عجب نرالی منطق ہے اہل دنیا کی
ہیرے کو چھوڑ کر کوئلے کی طلب کرتے ہیں

Strange is the logic of the people of this world
They reject the diamond and seek out the coal.